اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مکمل بندش کی دسویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صنعا ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل خالد الشایف نے کہا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران عائد پابندیوں کے باعث تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ مسافروں کے سفر کے مواقع متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران صنعا ایئرپورٹ سے تقریباً 5 لاکھ پروازیں بھی ان پابندیوں کے باعث آپریٹ نہیں ہو سکیں۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل ایئر ٹرانسپورٹ مازن الصوفی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ کی بندش یک طرفہ اقدام اور قانونی جواز سے محروم ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پیشگی اجازت کی شرط اور مختلف پابندیوں کے ذریعے اب بھی صنعا ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی پروازوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے مطالبہ کیا کہ یمن کی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور سعودی عرب کو یمن کے فضائی نیویگیشن کے انتظامی معاملات میں مداخلت سے مکمل طور پر روکا جائے۔
یمنی حکام کے مطابق یہ پابندیاں طویل عرصے سے فضائی آمدورفت میں خلل اور لاکھوں یمنیوں کو معمول کی فضائی سفری سہولیات سے محروم رکھنے کی بنیادی وجہ ہیں۔
آپ کا تبصرہ